Thursday, July 18, 2024
HomeBlogعالمی یوم ارض زمین اور زمینی حقائق

عالمی یوم ارض زمین اور زمینی حقائق

یوم ارض، ارتھ ڈے یا زمین کا عالمی دن وہ عالمی دن ہے جو کہ پوری دنیا میں 22 اپریل کو منایا جاتا ہے  زمیں کے عالمی دن کو منانے کی روایت 1970 سے پڑی ا س کے بعد  یوم ارض پوری دنیا میں عالمی سطح پر منایا جا تا ہے۔ ارتھ ڈے یا  زمین کا عالمی دن منانے کا  مقصد روئے زمین کے باسیوں میں اس بات کا احساس پیدا کرنا ہے کہ ہم  جس کرہ ارض پر زندگی بسر کر رہے ہیں  زمیں کا وہ حصہ ہماری فطرت سے دوری یا غیر فطری زندگی گزارنے کی بناء پر کئی قسم کی خرابیوں کا شکار ہو چکا ہے۔22 اپریل 1970 کو امریکہ کی درجنوں یونیورسٹیوں کے ہزاروں  طلباء وطالبات پارکوں سڑکوں اور کیمیونٹی سنٹروں  میں جمع ہوئے اور ان سب  طلباء کا ان جگہوں پر جمع ہونے کا مقصد تھا تحفظ ارتھ یعنی زمین کو آلودہ ہونے سے بچانا اور اس تحفظ ارض کے سلسلے میں  امریکہ کے دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی شرکت کی  تا کہ لوگوں کو زمین اور اس کی آلودگی کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے ۔اس  یوم ارض کے بعد آج تک یہ دن پوری دنیا میں  یوم ارض ، ارتھ ڈےیا زمین کا عالمی دن کے حوالے سے منایا جا تا ہے ۔مسابقت کی دوڑ میں آگے آگے بھاگنے والے انساں نے اس بات کو فراموش کر دیا کہ اس آگے بھاگنے کے نتیجے میں وہ اپنے بعد آنے والوں کے لئے اپنے پیچھے  زمین پر کتنی گہری کھائیاںچھوڑے چلا جارہا ہے ترجمہ۔(غفلت میں رکھا تم کو بہتات کی حرص نے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی خواہش نےحتی کہ تم نے قبریں جا دیکھیں)  سورہ تکاثرََانسان پیٹرول ڈیزل اور گیس کو  زمین سے دریافت کر کے یہ سمجھتا رہا کہ اس نے بڑے فائدے کی چیزیں حاصل کرلیں  اور اس بات کو بھول گیا کہ  یہی وہ  زمینی چیزیں ہیں جو اس کی اپنی تباہی وبر بادی کا باعث بھی ہو سکتی ہیں ان چیزوں کی  دریافت سے انسان نے محسوس کیا کہ بڑی کامیابی مل گئی ہےکسے معلو م تھا کہ بظاہر  کامیابی نظر آنے والے اس گمان کے پیچھے ایک کربناک حقیقت منہ کھولے کھڑی ہےزمین سے پٹرول ڈیزل اور گیس کے مل جانے کے بعد اس  عجلت پسند انسان نے پوری روئے زمین پر کارخانوں  ،فیکٹریوں اور کمپنیوں کا جال بچھا دیا  تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ حاصل کر کے اس زمین پر  کامیاب  لو گوں کے شانہ بشانہ شاہانہ زندگی گزار سکے  اور اس کی یہی خواہش اسے (حتی کہ تم نے قبریں جا دیکھیں) سورہ تکاثر۔ زمین کے اوپر سے زمین کے اندر قبر میں لے گئی۔ زمین کو آلودہ کر دیا فیکٹریوں  کارخانوں  اور  کمپنیوں سے نکلنے والے فاضل مادے نے  ز مین  کو اوران کی  چمنیوں سے نکلنے والا  دھواںفضاؤن کو بھی آلودہ کر رہا ہے  اس ترقی کی دوڑ میں ہم پیچھے آنے والوں کے لئے آسانیاں کم اور مشکلات زیادہ کھڑی کر رہے ہیں  ایٹم کی تباہ کاریوں  سے کون واقف نہیں اور قاتل   ایکس ریز الفا ،بیٹا اور گیما ریز کیا یہ سب کسی کسان کی ایجاد ہیں  ؟نہیں بلکہ ان کی تخلیق کرنے والے سمجھدار اور پڑھے لکھے افراد تھےَ۔بار بار ایکس رے کروانے سے انسانی جسم کو کینسر لاحق ہونے کے  امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔الفا ،بیٹا اور گیما شعاعوں کو کینسر کے علاج کے حوالے سے بنے انسٹی ٹیوٹ میں الفا بیٹا اور گیما نائف کہا جا تا ہے  اور نائف کا کام ہے قتل۔ ایکس رے کرنے والا اسٹاف جب تک اپنا مخصوص کالے رنگ کا کوٹ نہیں پہن لیتا تب تک وہ ایکسرے روم میں نہیں داخل ہوتا جب کہ ایکسرے کرانے والے مریض  تو تشخیص مرض کے لئے ان شعاعوں کا تختہ مشق بنتے ہیں اور ان کے ساتھ آنے والے صحت مند افراد کے جسموں میں یہ  قاتل ریز بظاہر  بغیر کوئی نقصان کئے داخل ہو جاتی ہیں  اور عرصہ دراز تک جسمانی اعضاء  کو نقصان پہنچانے کے بعد بالاخراس انسان کی موت کا باعث بن جاتی ہیں ۔ اور پھر موت اس سارے ڈرامے پر پردہ ڈال دیتی ہے۔زمین پر انسانی زندگی کو آلودگی سے بھی زیادہ درپیش خطرات  ان شعاعوں اور ایٹمی تجربات  اور نت نئی ہونے والی دریافت وایجادات ہیں  بقول اقبال

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت

احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

میخانے کی بنیاد میں آتا ہے تزلزل

بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خرابات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ

دنیا ہے تیری منتظر روز مکافات

لیکن یہ چیزیں چونکہ مالی منفعت کا باعث ہیں اس لئے ان  کا تذکرہ عام نہیں اور جانے بوجھے منصوبے کے تحت ساری ذمہ داری عوام پر اور آلودگی پر ڈال کر چپ سادھ لی جاتی ہے  ۔ جب تک سادہ طریقے سے  زمین پرزندگی گزاری جاتی تھی اس وقت تک  روئے زمین پر لوگوں کی عمریں بھی بڑی بڑی ہوا کرتی تھیں   لوگوں کی صحت بھی قابل رشک ہوتی تھی اور اس کرہ ارض پر صحت کے مسائل بھی اس قدر بھیانک نہ تھے جتنے آج  روئے زمین پر ہیں ۔ پھر ہوا یوں کہ اس  کر  ہ ا رض پر  انسانیت کے بڑے بڑے ہمدرد پیدا ہو گئے جنہوں نے بظاہر زمین پر بسنے والے انسانوں کو لاحق دکھوں کا مداوا کرنے کاڈھونگ رچایا جبکہ درحقیقت ان کے پیش نظر مالی منفعت تھی۔آج  زمین پر قائم ہسپتالوں میں جا کر دیکھیں  تو طرح طرح کے ایسے امراض میں لوگ  مبتلانظر آتے ہیں جو اس سے پہلے زمین پر  نہ کسی آنکھ نے دیکھے اور نہ ہی کسی کان نے سنے زمین اگر طرح طرح کی بیماریوں کے شکار انسانوں سے بھر گئی ہے تو اس میں زمینی آلودگی سے زیادہ کردار  اس جدیدیت کا ہے جس کو بڑے زور وشور سے انسانیت کی بقاء کا  باعث قرار دیا جا رہا ہے   اور   روئے زمین پراس جانب ایک دوڑ لگی ہوئی ہے  کہ اگر ہم نے اس وقت اس جدیدیت کا دامن نہ پکڑا تو ہم  اس کرہ ارض پر موجود  دیگر ممالک سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گےاور یوں ہم اپنی منزل سے دور ہو جائیں گے جبکہ حقیقت اس کے کافی برعکس ہے  اور زمینی حقائق یہ ہیں کہ ہم منزل کو پانے کی جستجو میں مخالف سمت میں دوڑے چلے جا رہے ہیں  تو پھر اس کا نتیجہ کچھ ایسا ہی ہو گا بقول حبیب جالب

 گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے

یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

 یہ جدیدیت باعث ترقی نہیں بلکہ  باعث معذوری ہے  روز مرہ کے کاموں کو آسان کرنے اور وقت بچانے کی خاطر ہم  فطری اور سادہ زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں جلد بازی اور تن آسانی کی وجہ سے ہم مصنوعی طرز زندگی کے قریب ہورہے ہیں اور اس جلد بازی کے نتیجے میں ایسی ایجادات ہونے لگی ہیں  جو کہ انساں کو آرام طلب بنا رہی ہیں  بفرمان قرآن(انسان بڑا جلد باز ہے )سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 11 انسان کو زمین پر بھیجا گیا تھا عبادت وریاضت کے لئےاور وہ آرام طلب ہو کر زمین کا بوجھ  گیا نتیجے کے طور پر بیماریوں کا شکارزمین کے اندر جاپہنچا جس زمین کے اوپر رہنے کی خوہش نے اسے آرام طلب بنایا تھا آج وہی خواہش اس کو زمین کے اندر لے جانے کا باعث بن گئی

 انسانی ہمدردی میں  بظاہر زمین پر  کی جانے والی  ان ایجا دات اور دریافتوں نے کس قدر انسانوں کی خدمت کی ہے اور  انسانی صحت کو کس حد تک نقصان پہنچایا ہے اس سوال کا جواب ہم ماہرین طب  اور پوری دنیا کے انسانوں کی صحت کے ٹھیکیدار پر چھوڑتے ہیں ۔ یہ بات لائق ستائش ہے کہ 1970 میں امریکی طلباء اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس ارتھ ڈےکو پہلی بار  منا کر زمین  کی آلودگی کے حوالے سے لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ  ہمیں اپنے کرہ ارض کو ایسی تمام کثافتوں سے پاک رکھنا چاہیئے جو کہ کسی طرح بھی ہماری زمین یا زمین میں بسنے والے باشندوں کے لئے مضر ہیں اس سے پوری دنیا کو جہاں ایک طرف زمین اور زمینی حقائق سے آ گاہی ملی تو  دوسری طرف اس  عالمی یوم ارض کو عالمی  طور پر منانے کی روایت چل نکلی  یہ دن منانے کی روایت بھی خوب نکالی ہے مغرب نے کبھی مدر ڈے کبھی فادر ڈے  اور کبھی واٹر ڈےبقول انور مسعود  مغرب سے چلنے والی یہ دن منانے کی روایت ہمیں نہ جانے کہاں لیجا کر چھوڑے گی فرما تے ہیں کہ

میں نے اس پہ عمل کیا فورن

مشورہ اتنا ستھرا تھا گویا

ہاتھ دھونے کا عالمی دن تھا

اس لئے میں نے منۃ نہیں دھویا

پھر موصوف فرماتے ہیں کہ مغرب کس قوم کو  ہاتھ دھونے کا درس دے رہا ہے  جس کے مذہب میں دن میں پانچ نمازوں کے لئے وضو کرنے کا حکم ہے۔ یہ آلودگی کے مسائل نہیں بلکہ حکم ربی کو توڑنے کی وہ سزائیں ہیں جو دنیا کو مل رہی ہیں   یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ  قرآن کی آیت ہے ۔سورہ روم میں ارشاد  باری تعالی ہے کہ   ترجمہ ،(۔خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد برپا ہو گیا  ہے تاکہ اللہ تعالی  انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل انہیں چکھائے)۔سورہ روم  آیت نمبر 41۔نبی ﷺ جب کبھی کسی طرف جنگی لشکر کو بھیجتے تو اس لشکر کے سپاہیوں سے کہتے کہ دیکھو   بوڑھوں بچوں اور عورتوں کو نہ مارنا اور نہ ہی درختوں کو کاٹنادیکھئے زمین کو آلودگی سے بچانے کے لئے نبوت اس وقت کہ رہی ہے کہ درختوں کو نہ کاٹنا کہ  جس وقت روئے زمین پر کوئی آلودگی لفظ کے معنی تک نہیں جانتا تھا اورمسلمان قوم کو آج مغرب پیغام دے رہا ہے کہ درخت فضائی آلودگی اور زمین کی آلودگی میں  کمی لانے کا  باعث ہیں  اس لئے انہیں نہیں کاٹنا چاہیئے ۔ روئے زمین پردین اسلام ایک کامل دین ہے اور یہ اپنے ماننے والوں کو ایک  مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے  اور زندگی کے کسی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑتا اور یہی اس دین اسلام کی حقانیت کی دلیل ہے۔اور اب زمین کی آلودگی اور زمین کی گندگی کا ڈھنڈورا پیٹ کر  مغرب اور اس کے چیلے اچھل کود کر رہے ہیں کہ جس کو  تقریبا ساڑھے چودہ سو سال قبل نبی ﷺ نے فر مایا تھا کہ صفائی نصف ایمان ہے  آج  مسلمانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ صحت کو قائم رکھنے کے لئےدانتوں کی صفائی بہت ضروری ہے اور اس کے لئے ایک سے ایک اور مہیکے سے مہنگے توٹھ پیسٹ  بن کر مارکیٹ کے حوالے کئے گئے  تاکہ مغرب اپنی تجوریاں بھر سکے کیا حضورﷺ مسواک کو پسند نہیں فرماتے تھے بلکہ اس دنیا کو الوداع کہنے سے پہلے نبی ﷺ نے  اس زمین پر جو آخری کام کیا  وہ مسواک ہی کرنا تھا  اور آج ہمیں مغرب سمجھاتا ہے کہ دانتوں کی صفائی صحت کے لئے بڑی ضروری ہے مسلماں اگر سنت رسولﷺ کو آختیار کرتے تو  دانتوں کی صفائی بھی ہو جاتی سنت رسولﷺ پر عمل کرنے کا ثواب بھی ملتا  اور وہ بھی  بغیر کسی مہنگے ٹوتھ  پیسٹ کے لیکن  کیا کہئے جب ذہنوں پر مغرب زدگی کی چھاپ لگی ہو تو کچھ سجھائی نہیں دیتا مغرب اور اس کے حوار ی پوری تندھی کے ساتھ لگے ہیں کہ کس طرح کرہ ارض پر بسنے والوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جائے  مغرب کی ان مضحکہ خیزیوں پر یہی کہا جا سکتا ہے  کہ بقول انور دہلوی

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے

 حضرت انسان کی اپنی بداعمالیاں ہیں کہ   اس نے مالی منعفت  کی خاطرایک ایسے بڑے خطرے کو مول  لیا جس کا انجام ایک دن زمین کی تباہی  پر منتج ہو گا  انسانی اور حیوانی فضلات کا نالوں کے ذریعے سمندروں میں بہایا جانا سمندری حیات کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے  جلد بازی اور تیز تریں سفر کے لئے استعمال کی جانے والی  گاڑیوں کا دھواں فضاء میں زہریلے  مادوں کا شامل ہونا بھی زمین ا ور  زمینی آلودگی کا کا باعث ہے۔آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ اور اس پر زیر کاشت  زمین کو کاٹ کر مالی منفعت کی خاطر شاپنگ سینٹر پلازے ریسٹورنٹ تعمیر کرنا بھی تو   زمین میں آلودگی پیدا کرنے کا باعث ہیں

کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد

مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ وبغداد

 یہ مدرسہ یہ جواں یہ سرور رعنائی

 انہی کے دم سے ہے میخانہ فرنگ آباد

میخانہ  فرنگ سے پھر ہمیں اقبال یاد آگئےفرماتے ہیں

میخانہ یورپ کے دستور نرالے ہیں

لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر

تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا

کہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر

لہذا یورپ کی اندھی تقلید کو چھوڑیں اور دین کی طرف آجائیں  یہی پوری کائنات ارض وسماء اور زمین  کی بقا کا باعث ہے یورپ کے میخانون کی پرانی روایت ہے کہ پہلےزمین پر موجود لوگوں کو آگہی فرہم کرنے کی آڑ میں بیماریاں بتانا اور پھر اس بیماری کے  خطرات سےزمین پر بسنے والے  لوگوں میں خوف وہراس پیدا کرنا اور اس کے لئے مہنگی ادویات اور تشخیص کی خاطرمہنگی ایٹمی شعاعوں سے  علاج   فراہم کرنا اور  زمین کے باسیوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا یہ فرنگی سامراج کے پرانے وطیرے ہیں ہندوستان کی سرزمین پر انگریز  ایسٹ انڈیا تجارتی کمپنی کے روپ میں آئے اور لو گوں کو مفت چائے پلانی شروع کردی پھر کچھ عر صے بعد یہی مفت ملنے والی   یہی چائے   ارض ہندوستان میں انگریز کے بنائے ہوئے اسٹوروں  پر فروخت ہونے لگی مغرب ہمارا خیر خواہ نہیںاس کا مقصد روئے زمین پر آسانیاں فرہم کرنا نہیں بلکہ سر مایہ بٹورنا ہے اس کے لئے فرنگی کسی بھی حد تک جاسکتا ہے   روئے زمین پر وہ فرنگی امن  کا عالمی چمپین بن کر ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے اور مجال ہے کہ  اس زمین کا کوئی کوئی ملک   اپنے طور پرایٹمی ہتھیار بناسکے  یا پھر ان کے تجر بات کر سکے فوری طور پر زمین میں آلودگی بڑھنے کے امکانات بڑھ جائیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عالمی چیمپین اور زمین پر موجود اس کے حواریوں کو ان ہتھیاروں سے طرح طرح کے خدشات لاحق ہو جائیں اور اسی کو بنیاد بنا کر چیمپین اور اس کے اتحادی اس ملک پر چڑھ دوڑیں اور زمین پر اسے نشان عبرت بنا کر رکھ دیں ہاں اگر اس  ملک کو اپنے زمینی دشمنوں سے خطرہ ہے تو وہ ہتھیار  عالمی چیمپین سے خرید کر سکتا ہے  دین اسلام کی جانب آجایئے اسلام کے دامن پناہ میں آجائے  یقین جانیے جو کچھ اس روح زمین پر ہمیں اسلام سے مل سکتا ہے وہ کہیں اور سے نہیں مل سکتا آپ اپنی زندگیوں کو اسلام کے اصولوں اور قرآن و سنت پر استوار کر لے تو پھر کوئی ڈر وخوف نہ رہے گا  یہ بات کتنی مضحکہ خیز ہے کہ اشرف المخلوقات انسان کو عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے خردبنی جرثوموں کا خوف پیدا کرکے اس کو لوٹا جایا جا رہا ہے اس بے چارہ عام انسان ایسے سرمایہ داروں کےہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے اور وہ اپنی مالی منفیت اور مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے اسے استعمال کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں اچھے استاد کی خوبیاں

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments